اجیت پوار طیارہ حادثہ!

مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت دادا پوار کے طیارہ حادثہ کے قریب 20 دن بعد ان کے بیٹےنے چُپّی توڑی ۔چھوٹے بیٹےجے پوار نے ایک بے حد جذباتی پوسٹ کے ذریعے جانچ پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں ۔انہوں نے سیدھے طور پر کہا کہ طیارہ کا بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے ۔بتادیں کہ کسی بھی طیارہ حادثہ میں جب سب کچھ ضائع ہوجاتا ہے تو اس کے اندر بلیک باکس نہ تو آگ سے اور نہ پانی سے زمین پر گرنے سے ،دھماکہ سے ضائع نہیںہوتا ۔20 برسوں تک وہ محفوظ رہتا ہے ۔جے پوار نے صاف طور پر کہا ہے کہ بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ دعویٰ کیاجارہا ہے ۔جنتا کو سچ جاننے کاحق ہے ۔جے پوار نے سسٹم کو کٹھ گھرے میں کھڑا کیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ طیارہ حادثہ میں بلیک باکس آسانی سے ضائع نہیں ہوسکتے۔مہاراشٹر کی عوام کو اس دل دہلا دینے والے حادثہ کا پورا اور صاف ستھرا اور بلا تنازعہ سچائی جاننے کا حق ہے ۔جے پوار نے جہاز کی کمپنی وی ایس آر کے خلاف فوراً سخت قدم اٹھانے کی مانگ کی ہے ۔اس کمپنی کے اڑانے اور کنٹرول کرنے پر فوری پابندی لگائی جانی چاہیے ۔اگر جہازوں کے دیکھ بھال میں ہوئی متعلقہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے ۔پوسٹ کے آخر میں انہوں نے بے حد جذباتی ہو کر لکھا : مس یو ڈیڈ ۔ادھر اجیت پوار کے بھتیجے اور ممبر اسمبلی روہت پوار نے کہا کہ اجیت دادا پوار کی اچانک موت میں سازش کا اندیشہ ہے ۔روہت پوار نے ممبئی میں دعویٰ کیا کہ کئی ذرائع سے مفصل معلومات اکٹھی کرنے کے بعد وہ پریس کانفرنس کررہے ہیں اس میں روہت پوار نے کہا کہ انہیں ایئر لائنس کمپنی وی ایس آر بکنگ سنبھالنے والی کمپنی ایرو اور پائلٹ سمت کپور پر شبہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں جانکاری اس لئے اکٹھی کرنی پڑی کیوں کہ جانچ ایجنسیاں بہت دھیمی رفتار سے کام کررہی ہیں ۔اجیت دادا پوار کے پریوار اور این سی پی نے اب اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ تیزکر دی ہے نائب وزیراعلیٰ سمترا پوار نے وزیراعلیٰ دیوندر فڑنویس سے مل کر اس معاملے میں اعلیٰ سطحی جانچ کی درخواست دی ہے ۔پرفل پٹیل، سنل تٹکرے اور پارتھ پوار جیسی ہستیوں کی موجودگی میں سرکار سے مانگ کی ہے ۔اس حادثہ کے پیچھے کی ہر سازش یا لاپرواہی کا پردہ فاش ہونا چاہیے ۔ان کا سیدھا نشانہ اس جہاز رانی کمپنی پر ہے جس کا طیارہ اس حادثہ کا شکار ہوا ۔الزام لگ رہا ہے کہ کیا جہاز کی سروسنگ او ر سیکورٹی پیمانوں میں کوئی کمی برتی گئی تھی ؟ 28 جنوری کو ہوئے اس حادثہ میں اجیت پوار سمیت پانچ لوگوں نے اپنی جان گنوائی ۔اس واقعہ کے بعد سے ہی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ عام ایک حادثہ یا کوئی گہری سازش ؟ محترم اجیت دادا پوار کی اچانک موت سے پورے مہاراشٹر کو گہرا دھکا لگا ہے یہ کہنا ہے ایم پی سپریہ سلے کا این سی پی گروپ نے مانگ کی ہے کہ اس حادثہ کی جانچ پوری ہونے تک وزیر جہاز رانی کے رام موہن نائیڈو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے ۔ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ ا س معاملے کی منصفانہ آزادانہ جانچ ضروری ہے تاکہ حادثہ کے اسباب کا صاف پتہ چلے لیکن ایسا ہوگا کیا ؟  (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!