مودی کا اسرائیل دورہ اور عرب میڈیا!

وزیراعظم نریندرمودی کا اسرائیل دورہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ ان کے رشتے اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ان کی تقریر ان سب کا تذکرہ عرب میڈیا میں خوب ہورہا ہے ۔عر ب میڈیا اس دورہ کو صرف بھارت -اسرائیل رشتوں کے طور پر نہیں بلکہ بڑے علاقائی سبھی اسباب کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔کئی عرب تبصرہ نگاروں نے ذکر کیا ہے کہ یہاں تاریخی طور سے بھارت ٹو نیشن تھیوری کی بات کہتا ہے اور فلسطینی خطہ میں امن کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے وہیں مودی کی لیڈر شپ میں وہ اسرائیل کے بےحد قریب آچکا ہے ۔عرب میڈیا اس بات پر بھی توجہ دے رہا ہے کہ بھارت کا موجودہ موقف اسرائیل اور فلسطینیوں کے رشتوں میں اس کے روایتی موقف سے الگ سمت میں جارہا ہے ۔جہاں پہلے بھارت کی خارجہ پالیسی میں اس بات پر زور تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی اہمیت اور دونوں سے ہی برابر دوری بنائے رکھے گا ۔وہیں اب بھارت کی خارجہ پالیسی کے مرکز میں مفاد پر مبنی رشتے زیادہ اہم ہو گئے ہیں ۔عرب میڈیا کے مطابق بھارت اپنے پڑوسیوں سے کشیدگی بھرے رشتوں اور اپنی فوجی ضرورتوں کے پیش نظر اب وہ اسرائیل کے زیادہ نزدیک جارہا ہے ۔عرب میڈیا نے وزیراعظم مودی کے اس دورہ کا ذکر کے ساتھ ساتھ غزا میں اسرائیل پر لگے قتل عام کے الزامات کو بھی ہائی لائٹ کیا ہے ساتھ ہی بھارت کے اپوزیشن لیڈروں کی ان تبصروں کو بھی اپنی کوریج میں شامل کیا ہے جن میں وہ اسرائیل پر لگے ان الزامات کے مد نظر پی ایم مودی کے دورہ کی مخالفت کررہے ہیں ۔الجزیرہ کے اسرائیل -فلسطین معاملوں کے واقف کار اعظم عبدالادس کہتے ہیں کہ ہندوستانی وزیراعظم کا یہ دورہ گہرے حکمت عملی تبدیلی کی علامت ہیں ۔بھارت اسرائیل ساجھیداری اس خطہ میں ایک نئے علاقائی پولورائزیشن کو جنم دے گی ۔آنے والے وقت میں مشرقی وسطیٰ اور ایشیا کی سیاست میں بھارت اسرائیل کا اہم رول ہوگا ۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اپنی تقریر میں بھارت کے ساتھ فوجی ساجھیداری کا اشارہ دیا ۔اس سے صاف ہے کہ اس سیکٹر میں پاکستان ،ترکی وسعودی عرب کے امکانی اتحاد کو چنوتی دینے کے لئے بھارت اور اسرائیل اتحادی ملکوں کے ان میں نزدیک آرہے ہیں ۔بھارت اسرائیل کے ساتھ اس گٹھ بندھن کو پاکستان کے ساتھ اپنے علاقائی رشتوں اور ایشیا میں اپنی فوجی ،ڈپلومیسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔وہیں اخبار الجزیزہ نے مودی کے اسرائیلی پارلیمنٹ سینٹ میں دئیے گئے خطاب پر لکھا : غزہ میں اسرائیل پر قتل عام کے سنگین الزام کے باوجود بھارت نے اسرائیل سے یکجہتی دکھائی اور پی ایم مودی نے غزہ میں اسرائیل کے تباہ کن جنگ کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے ۔بھارت نے اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کے لئے مودی سرکار ہندو راشٹر واد کا سہارا لے رہی ہے ۔پی ایم مودی نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں ۔آپ کا دکھ سمجھتے ہیں وجہ کوئی بھی ہو شہریوں کے قتل کو جائز نہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔خلیجی جنگ میں بھارت میں نریندر مودی کے اس دورہ کا جن اپوزیشن لیڈروں نے مخالفت کی ہے اسے بھی کور کیا ہے اور کانگریس نیتا پرینکا گاندھی کے اس بیان کو جگہ دی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ پی ایم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے غزہ میں کئے گئے قتل عام کا بھی ذکر کریں گے ۔لندن ویسٹ اینڈ دی عرب لکھتا ہے کہ مودی ایک کٹر ہندو راشٹر وادی نیتا ہے وہ دنیا میں ان چند لیڈروں میں شمار ہے جنہوں نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سب سے پہلے اسرائیل کے ساتھ اتحاد دکھایا تھا لیکن بھارت ان 100 سے زیادہ ملکوں میں بھی شامل ہے جنہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے محدود اختیارات کو کمزور کرنے کے اسرائیل کی کوششوں کی مذمت کی ہے ۔اسرائیل جنگ کے وقت دورہ کا کیا یہ مطلب نکالاجائے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں بھاری تبدیلی آرہی ہے ۔بھارت کو اب عرب ملکوں کے رد عمل کی کوئی فکر نہیں ہے ؟ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!