ٹرمپ کی دھمکی ،رمضان کی رونق !
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حملے کی مسلسل دھمکیوں کے درمیان ایران میں رمضان کو لے کر جوش میں کوئی کمی نہیں نظر آرہی ہے ۔مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ایران کے اندر عام زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے ۔ادھر ایران سے ملحق علاقے میں امریکی فوج کی مسلسل بڑھتی تعیناتی اب صرف اشارہ دینے تک محدود نہیں لگتی بلکہ یہ حقیقت میں جنگ کے واضح اشارے ہیں ۔امریکی جنگی بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس زیرلڈ فورڈ کے ایرانی آبی خطہ کے پاس پہنچنے سے حالات سنگین بنے ہوئے ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں امریکی فائٹر جیٹ و دیگر ساز وسامان بھی اس علاقہ میں پچھلے کچھ دنوں سے لائے گئے ہیں ۔اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ -اسرائیل یہاں کئی سطحوں پر فوجی کاروائی کے لئے متبادل تیار کررہا ہے ۔ایران میں یہ نظریہ مضبوطی ہوتا جارہا ہے کہ ٹرمپ اپنی بات منوانے کے لئے فوجی دباؤ بنا رہا ہے ۔جنگ کی آہٹ کے باوجود ایران میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر آرہا ہے ۔مساجد میں خصوصی نماز و افتار پارٹیاں ، تراویح صدقہ و فطرہ اہمیت سے بٹ رہا ہے ۔اسلای رپبلکن نیوز ایجنسی نے رمضان کے موقع پر صدر مسعود زیششکین کا پیغام نشر کیا ہے ۔انہوں نے اس مہینے کو آتم چنتن اور اتحاد کا وقت بتایا ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی طاقتیں ہمیں اپنا سر جھکانے کے لئے سازش کررہی ہیں ۔۔لیکن وہ ہمارے لئے جو بھی پریشانیاں پیدا کریں ، ہم اپنا سر نہیں جھکائیں گے ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو اس سے مغربی ایشیا میں ایک علاقائی جنگ چھڑسکتی ہے۔ ساری کشیدگی اور زیادہ بڑھ سکتی ہے ۔خامنہ ای نے کہا کہ ایران اکسانے کی پالیسی نہیں اپناتا لیکن انہوں نے صاف کیا کہ ایرانی ملک پر اگر کوئی حملہ یا اذیت پہنچائی گئی تو ایران ایسا سخت جواب دے گا جس کا امریکہ -اسرائیل کو اندازہ نہیں ۔ہم پر کوئی بھی شرارت ہو چاہے وہ لمٹڈ اسٹرائک ہی کیوں نہ لیکن اس کا پوری طاقت سے جواب دیں گے ۔وسطی مشرق کی تمام امریکی فوجی ساز وسامان سمیت ان کے جنگی بیڑے بھی محفوظ نہیں رہیں گے ۔اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اپنی شرطیں بدل رہے ہیں پہلے انہوں نے تین شرطیں رکھی تھیں : ایران اپنا نیوکلیائی پروگرام ختم کرے ، اپنی میزائلوں کی پروڈکشن اور صلاحیت کم کرے اور تمام اپنے پروکسیوں کی حمایت بند کرے ۔ایران سے امریکہ کی اس سلسلے میں دو بار جین ورب والی بات چیت ناکام ہو چکی ہے ۔اب تیسری اور آخری دور کی بات ہورہی ہے ۔ا س درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے اب کہا ہے کہ ایران میں اقتدار تبدیل سے بہتر کچھ ہو ہی نہیں سکتا ۔امریکہ ان چاروں طریقوں سے ایران کو گھیرنے کی جنگی پالیسی پر کام کررہا ہے ۔جنگی جہازوں کی تعیناتی بحر عرب میں تعینات امریکہ کے بڑے جنگی بردار بیڑوں کو گھیرنے کی ہے ۔پہلے بڑی تعداد میں ڈریکس سے جہازوں کی حفاظت سسٹم کو الجھائیں گے ، تاکہ میزائل کو روکنے میں کامیاب رہیں : دوسری خلیج کے ملکوں میں موجود امریکی 19 اڈوں پر قریب 50 ہزار فوجی کسی بھی وقت حملے میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ حالانکہ یہی فوجی ایران کے نشانہ پر بھی ہوں گے ۔تیسرا تیل سپلائی روکنا امریکہ اس کوشش میں ہے کہ ایران کسی بھی دیش کو اپنے یہاں سے تیل کی سپلائی نہ کر سکے تاکہ اس کی مالی حالت بگڑے ۔اس نے بھارت پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ بھارت ایران سے تیل لینا بند کرے ۔اس درمیان اسرائیل سے ایک غیر مصدقہ خبر سوشل میڈیا میں چل رہی ہے کہ اسرائیل نے اب وارننگ دی ہے کہ اگر اس کے وجود پر خطرہ ہوا تو وہ ایسے ہتھیار چلائے گا جو ابھی تک استعمال نہیں ہوئے ۔اشارہ صاف ہے کہ نیوکلیائی بم کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔ کل ملا کر بڑی دھماکہ خیز حالت بنی ہوئی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ جنگ ٹلے کیوں کہ یہ اگر ہوتی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑ سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں