Translater
06 ستمبر 2020
بدلہ لینے کیلئے کھول رہا ہے تبتیوں کا خون
مشرقی لداخ کی برفیلی چوٹیوں کے پار چین کے قبضہ والی اپنی سرزمیں کو واپس لینے کے لئے تبتی شیروں کا خون کھول رہا ہے ۔تبت سے ہجرت کر آئے لداخ میں سینکڑوں تبتی خاندانوں کی تیسری پیڑ ی اس وقت چین سے اپنا گھر واپس لینے کے لئے فوج کے ساتھ اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کے پیرا کمانڈوں کی شکل میں ڈرائیگن کے خلاف میدان میں ہیں ۔اور یہ سیدھے فورس وزارت داخلہ کے ماتحت ہے ۔لداخ کے پین گون جھیل کے جنوبی کنارے سے لگے علاقہ میں بھارت کے اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کے ڈولپمنٹ ریجمنٹ کی کمپنی لیڈر نیما توزن سنیچر کی رات شہید ہو گئے ۔نیما کی ترنگے میں لپٹی ہوئی لاش کے لے شہر سے چھ کلو میٹر دور ان کے گاو¿ں لائی گئی ۔تبت کی ضلع وطن پارلیمنٹ کی ممبر نام ڈول لگیاری کے م طابق یہاں پر تبتی بودھ روایتوں کے ساتھ ان کاا نتم سنسکار کیا گیا ۔نام ڈول لگیاری کے مطابق کبھی آزاد ملک لیکن اب چین کے علاقہ تبت کے نیما توزن بھارت کے اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کی ڈولپمنٹ ریجمنٹ میں کمپنی لیڈر تھے دو دن پہلے چینی فورس پی ایل اے کے ساتھ پینگون جھیل علاقہ میں ہوئی جھڑپ میں جان چلی گئی ۔ہندوستانی فوج نے اس معاملے پر کسی طرح کی رائے زنی نہیں کی ۔اس واقعہ نے چینی فوج نے مشرقی لداخ میں اکسائی چن میں فوجی سرگرمیاں شروع کر ایل اے سی پر کی پوزیشن بدلنے کی کوشش کی تھی ۔جس کو ناکام کر دیاگیا ۔کیا ہے ایس ایف ایف ؟بھارتیہ فوج کے سابق کرنل اور دفاعی معاملوں کے ماہر اجے شکلا نے اپنے بلاگ میں کمپنی لیڈر نیما تولن اور اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کا ذکر کیا ۔در اصل 1962میں تیار کی گئی اسپیشل ٹکڑی ایس ایف ایف ہندوستانی فوج کی نہیں بلکہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کا ایک حصہ ہے ۔انگریزی اخبارہندوستان ٹائمس میں شائع رپورٹ کے مطابق اس یونٹ کا کام اتنا خفیہ ہے کہ شاید فوج کو بھی معلوم نہیں ہوتاکہ یہ کیاکررہی ہے ۔ڈائرکٹر جنرل سکیورٹی کے ذریعے سے سیدھے وہ پی ایم کو رپورٹ کرتی ہے اس کی بہادری کی کہانیا ں عام لوگوں تک نہیں پہونچ پاتی ۔اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کے جوان اور ہندوستانی فوجی 11جون 2005کو لیح میں پردھان منتری منموہن سنگھ کا خطاب سنتے ہوئے آئے بی کے بانی ڈائرکٹر بھولاناتھ اور دوسری جنگ عظیم کے فوجی بعد میں اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ رہے بجو پٹنائک کی صلاح پر بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے تبتی گوریلو کی ایسی ٹکڑی تیارکرنے کی سوچی جو ہمالیہ کے خطرناک علاقہ میں چینیوں سے لوہا لے سکیں اور کئی کاروائیوں میں شامل ایس ایف ایف لداخ وغیرہ کے تبتی نزاد لوگ کافی پہلے سے جلید ہندوستانی فوج کا حصہ ہیں کئی لوگ مانتے ہیں کہ اس میں شامل لوگ 1950کی دہائی میں ان کھمپا باغیوں کی جانشین ہیں جو تبت پر چینی حملے کے خلا ف کھڑے ہوئے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
نیتن یاہو کی کھلی وارننگ: ابھی جنگ ہو سکتی ہے
ایران او ر امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کی لپٹیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں ۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نی...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں