Translater

05 جون 2019

ڈاکٹر ہرش وردھن پر ہی مودی کا بھروسہ قائم

مرکز میں چاندنی چوک میں مسلسل دوسری مرتبہ اپنا نام کمایا ہے لوک سبھا کی یہ سیٹ بھاجپا کی جھولی میں جانے کے ساتھ مرکزی کیبنیٹ میں علاقہ نے اپنی موجودگی درج کرائی ہے ۔چاندنی چوک سے ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر ہرش وردھن مسلسل دوسری مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ۔دلچسپ یہ ہے کہ پہلے بھی اس سیٹ سے جیتنے والے کئی ایم پی کیبنیٹ کا حصہ رہے ہیں ۔چاندنی چوک لو ک سبھا سیٹ کا کیبنٹ میں درجہ برقرار ہے ۔دہلی کے کسی اور ایم کو کیبنیٹ میں جگہ نہیں دی گئی دہلی کے ساتوں ایم پی میں ڈاکٹر ہرش وردھن کا ہی قد سب سے بھاری تھا انہیں فائدہ بھی ملا اور دہلی میں اگلے سال اسمبلی چناﺅ کو دیکھتے ہوئے اس بار وزرا ءکی تعداد بڑھنے کی امید جتائی جا رہی تھی ۔لیکن کیبنیٹ کے فائنل ہونے پر صرف ڈاکٹر ہرش وردھن ہی کو وزیر بنائے جانے کی کال پہنچی ۔مسلسل دوسری بار مودی سرکار میں کیبنیٹ وزیر بننے سے ڈاکٹر ہرش وردھن کا قد دہلی کی سیاست میںبڑھا ہے اور ان کا سیاسی کیرئیر بھی اچھا رہا ہے ۔وہ طالب علمی کے زندگی سے ہی آر ایس ایس سے جڑ گئے تھے ۔1993سے چناﺅی سیاست میں اترے ڈاکٹر ہرش وردھن ابھی تک ایک بھی چناﺅ نہیں ہارے اور 1993میں پہلی مرتبہ کشنا نگر سیٹ سے چناﺅ لڑ کر دہلی اسمبلی میں پہنچے تھے اور اس وقت کی بھاجپا سرکار میں قانون و وزیر صحت بنایا گیا پھر 1996میں وزیر تعلیم بنے دہلی کے محکمہ ہیلتھ میں ان کی سب سے اہم یوجنا 1994میں پولیو خاتمہ اسکیم رہی اور دہلی سے پولیو ختم کرنے میں ڈاکٹر ہرش وردھن کا سب سے اہم رول تھا ۔اور ان کی کوششوں کو ملک کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک میں سراہا گیا ۔پیشے سے ای این ٹی ،ایم بی بی ایس،ڈاکٹر ہرش وردھن ڈاکٹروں کی سیاست میں سرگرم رہے اور وہ دہلی میڈیکل ایسوشی ایشن کے صدر بھی رہے ہم ان کو ایک بار پھر وزیر بننے پر مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب دہلی کے مسائل پر توجہ دیں گے ۔اور پارلیمنٹ میں موثر ڈھنگ سے اٹھائیں گے ۔

(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور ی...