نکھل گپتا کو ہوسکتی ہے 40 سال کی جیل!
ایک ہندوستانی شخص نے جمعہ کو نیویارک میں علیحدگی پسند لیڈر گرو پنتھ سنگھ پنو ںکے 2023 میں قتل کی ناکام سازش رچنے کے الزام میں قصور قبول کر لیا ہے ۔پتہ نہیں پچھلے کچھ دنوں سے بھارت اور امریکہ کے ستارے ٹکرا رہے ہیں ۔ایک کے بعدا یک نئی پریشانی کھڑی ہوتی جارہی ہے ، پہلے گوتم اڈانی کا معاملہ پھنسا پھر بھارت -امریکہ ٹریڈ ڈیل پر تنازعہ کھڑا ہوگیا اور اب پنوں کے قتل کی سازش میں معاملہ پھنس گیا ہے ۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ یہ اس معاملے میں پہلا جرم قبول کیا گیا ہے جسے کنیڈا اور امریکہ کے حکام نے بھارت سرکار کی جانب سے حریفوں کے قتل کی مہم سے جڑابتایا تھا ۔امریکہ میں ہندوستانی نژاد کے نکھل گپتا ، علیحدگی پسند لیڈر گروپنتھ سنگھ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش تیار معاملے میں اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت نیویار ک کی ایک عدالت میں ہورہی ہے ۔اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نکھل گپتا نے قتل کے لئے سپاری دینے ،قتل کی سازش تیاری کے ساتھ ہی منی لانڈرنگ کی سازش سے جڑے تینوں الزامات کو بھی قبول کر لیا ہے ۔گپتا کو 26 مئی کو سزا سنائی جائے گی ۔ امریکہ میں ان تینوں الزامات میں ملوث طور پر 40 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ گپتا کو 30 جون 2023 کو چیک رپبلک سے گرفتار کیا گیا تھا ۔بعد میں اس کی حوالگی کرائی گئی ۔الزام ہے کہ نکھل گپتا نے سازش ہندوستانی سرکاری ملازم رہے وکاس یادو کے کہنے پر رچی تھی اس سلسلے میں وکاس یادو کو سی سی کہہ کر مخاطب کیا گیا ۔اس سلسلے میں مارچ 2025 میں ہی وزارت خارجہ سے کہا تھا کہ وہ( وکاس یادو )اب بھارت سرکار کے ملازم نہیں ہیں ۔ چارج شیٹ کے مطابق ، 2023 میں یادو نے گپتا کو قتل کا کام سونپا تھا ۔یادو کے کہنے پر گپتا نے ایک ایسے شخص سے رابطہ قائم کیا جو اصلیت میں امریکی جانچ ایجنسی سی آئی اے کا ہی انڈر کور ایجنٹ تھا ۔وکاس یادو نے ایک ساتھی کے ذریعے اس ہٹ مین کو ایڈوانس کے طور پر 15 ہزار ڈالر دیے ۔2023 میں ہی وزارت خارجہ نے کہا تھا نکھل گپتا کو تین بار چیک جمہوریہ میں کونسلیٹ مدد دی گئی ۔یوں تو معاملہ امریکہ میں 2023 سے چھایا ہوا ہے، لیکن اس معاملے میں اس حالیہ واردات کی ٹائمنگ کو بھی اہم ماناجارہا ہے ۔جب بھار ت اور امریکہ کے تعلقات بہت صحیح نہیں ہیںاور دونوں دیشوں کے درمیان ٹریڈ ڈیل کو لے کر ایک تجارتی انترم سمجھوتہ کو اگلے مہینے تک قطعی شکل دینے کی امید ہے ۔ایسے میں بھارت کے لئے آگے کی راہ آسان نہیں نظر آتی ۔محکمہ انصاف نے پنوں کے قتل کو سازش اور 18 جولائی کو کنیڈا میں خالصتانی شخص نجر کے قتل سے بیچ میں لنک جوڑے ۔ایف بی آئی کے ڈائرکٹر رومن روز ہارٹ سونی نے کہا کہ امریکی شہری صرف بولنے کی آزادی کا سوال کرنے کے لئے ٹرانس نیشنل ریپریشن نشانہ بنا ۔یعنی اذیت کے لئے کسی دوسرے دیش کی سرزمین کا استعمال کی سازش ہے ۔اس لفظ کا استعمال کنیڈائی حکام نے کنیڈا میں نجر کے قتل پر کیا تھا ۔بھار ت سرکار کے اشارے پر کی گئی بتایا گیاہے ۔جسے بھار ت سرے سے خارج کر چکا ہے۔ بھارت میں پچھلے 7 نومبرمیں امریکہ کی جانب سے اٹھائی گئی سیکورٹی تشویشات پر غور کرنے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی جانچ ایجنسی تشکیل دی گئی تھی ۔اکتوبر 2024 میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پنوں کے خلاف ناکام قتل کی سازش سے جڑے محکمہ انصاف کے مقدمہ میں جس شخص (وکاس یادو) کا نام سامنے آیاتھا ۔وہ اب بھارت سرکار کا ملازم نہیں ہے ۔بنیادی طور سے کمیشن میں سرکاری افسر کو سی سی کہا گیا ۔اکتوبر 2024 میں ہی امریکی حکام نے دوسرا ترمیم مقدمہ سامنے پیش کیا ۔جس میں سی سی کی پہچان وکاس یادو کے طور پر کی گئی ۔بعد میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ہمیں مطلع کیا گیا مقدمہ میں تذکرہ شدہ شخص اب بھارت میں کام نہیں کرتا ہے ۔ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ اب وہ بھارت سرکار کے ملازم نہیں ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نکھل گپتا کے خلاف امریکی عدالت میں کیس آگے کیسے بڑھتا ہے ۔یہ دیکھنا ہوگا کہ وکاس یادو کو لے کر امریکہ بھارت پر کتنا دباؤ بناتا ہے اور بھار ت سرکار آگے کیا کرے گی؟
(انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں