Translater
09 جولائی 2020
بہوو ¿ں سمیت پورا کنبہ فوج میں!
دیش بھگتی کی مثال بہت ملتی ہیں لیکن یہ سننے میںکم ملتا ہے کوئی پورا خاندان ہی فوج میں ملازم ہو یہاں تک کہ بہوئیں بھی فوجی ہوں ایک ایسا ہی خاندان پرتاپ گڑھ ضلعے کی تحصیل کے ایک گاو¿ں پرشچے کے باشندے رادھے شیام تیواری کا ہے ۔1962میں رادھے شیام چین سے جنگ لڑ رہے تھے ان کے دو بیٹے بھی فوجی بنے اب ان کے پوتا پوتی اور بہوئیں فوج میں شامل ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ آر پار کی لڑائی ہوئی تھی تو 1962والی جو کھلش ہے مٹ جائے گی ۔رادھے شیام تیواری 1958میں فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور 62میں چین کے ساتھ جڑے تب ہندوستانی زمینی فو ج کے پاس ناٹ بندوق اور لائڈ مشین گن اور آر سی ایل توپے تھیں اور تین انچ کے موٹار ہوتے تھے ۔چینی فوج انتہائی جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح تھی لڑائی میں جو کسک تھی وہ آج بھی ہے آج 2020کی ہندوستانی فوج ہے 1962کی نہیں یہ بات گلوان وادی میں چینیوں کو سمجھ میں آگئی ہوگی اپنے والد کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے بیٹے ائیر فورس کے ریٹائرڈ فوجی سازو رام تیواری کہتے ہیں کہ اب ہندوستانی فوج کے پاس جدید ترین جہاز اور دیگر جنگی سامان ہیں ۔اب تیسری پیڑی سے دھریندر تیواری نے بھی میجر لیفٹننٹ کمانڈر کے طور سے ریٹائرڈ ہیں ان کی بیوی دیپیکہ تیواری ملیٹری اسپتال احمد آباد میں میجر ہیں ۔اسی طرح دھریندر کے چھوٹے بھائی انوارگ تیواری ائیر فورس میں اسکو¿ائڈرن لیڈر ہیں وہ بھی اس وقت سلچرآسام میں تعینات ہیں ۔اب ان کاماننا ہے کہ چین جنگ کی پوزیشن میں نہیں ہے جنگ ہوئی تووہ سیوا کے موقع کا انتظار نہیں کریںگی ۔جب بھارت میںایسے راشٹر وادی پریوار ہوں تو ہمیں چین کا مقابلہ کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ۔خوش قسمت ہیں یہ تیواری خاندان ،جے ہند!
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
اور اب ایران بنام یوکرین
مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارو...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں