جنگ تم شروع کرو گے ختم ہم کریں گے!
یہ وارننگ دی تھی آیت اللہ علی خامنہ ای نے شہید ہونے سے پہلے ۔انہوں نے ایک بار نہیں بار بار یہ خبردار کیا تھا اور ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر امریکہ -اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو ہم منھ توڑ جواب دیں گے ۔ایسا جواب دیں گے جس کا امریکہ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔اتنا ہی نہیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوگا تو جوابی کاروائی پورے مشرقی وسطیٰ کے ملکوںمیں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ہوگی ۔اور یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چار دن میں ایران کو گھٹنوں پر لادیں گے ۔اور نیا اقتدار قائم کردیں گے اب جنگ کے 7-8 دن گزر چکے ہیں اب وہی ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ 4-5 ہفتے کھچ سکتی ہے ۔دراصل امریکہ پھنس گیا ہے طالبان اگر 20 سال بعد بھی لڑائی کے بعد بھی زندہ رہا تو اس کے پیچھے اس کی حکمت عملی اور افغانستان کے جغرافیائی حالات تھے ۔ایران بھی امریکہ کے لئے ایسی ہی چیلنج پیش کرنے والاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار نہیں کیا ہے لیکن یقینی جانیے اگر امریکی فوجی ایران میں داخل ہوتے ہیں تو ویتنام اور افغانستان کی طرح اسے ذلیل ہو کر بھاگنا پڑ سکتا ہے ۔دہائیوں سے خلیجی ملکوں کو امریکی سیکورٹی کو لے کر بھرم بنا ہوا تھا لیکن آسمان سے برستی ایرانی میزائلوں نے اس بھروسہ کو توڑ دیا ہے ۔ایران نے خلیج کے ملکوں ، یو اے ای ،سعودی عرب اور کویت بحرین میں جم کر میزائلیں برسائی ہیں اور امریکی اڈوں کو تباہ کیا ہے ۔ایرانی حملوں کا مقصد اور پیغام صاف تھا کہ جو دیش امریکی فوج کو حملے کے لئے اپنی زمین دے رہے ہیں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ایران کے وزیرخارجہ عباس افراہیمی نے کہا کہ تہران نے اس علاقہ میں دشمنوں کے فوجی اڈوں پر حملے کرکے شروعات کی ہے وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ اگلے 4-5 ہفتوں تک اور چل سکتی ہے ۔جس سے مشرقی وسطیٰ میں اور تباہی پھیلنے کے اندیشات بڑھ گئے ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ کے قتل کے بعد مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں میں صورتحال امریکی ٹھکانوں پر تابڑ توڑ ایرانی حملے ہورہے ہیں اس میں سعودی عرب میں امریکی سفارتخانوں قطر کے العدید ایئر بیس ،بحرین میں امریکی ایئر فورس کے پانچوے بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور دبئی کے کئی ہوٹلوں اور اہم ترین فوجی عمارتوں پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ اب جنگ پورے مشرقی وسطیٰ میں پھیل چکی ہے ۔امریکی سعودیہ کے اکنامک مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے وہاں کی سب سے بڑی آرامکو ریفائنری پر بم برسائے ہیں۔ یہ حملے اتنے خطرناک ہیں کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتخانوں کو بند کر دیا ہے ۔اس کے علاوہ امریکہ نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کو نکالنے کو لے کر ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا تھا اور ٹرمپ کو امید تھی کہ سر کاٹنے سے سسٹم گر جائے گا لیکن ہوا الٹا ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں ،خامنہ ای کے لئے لاکھوں لوگ ماتم کرتے نظر آئے ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں بلکہ ایرانی سرکار کی حمایت کرتے نظر آئے اور انتقام لینے کے ارادے دکھائی دئیے ۔اقتدار ڈہا نہیں بلکہ ایران نے پورے مشرقی وسطیٰ کو ہلا دیا ۔اب ٹرمپ بھی سمجھ گئے ہیں کہ جنگ لمبی چلے گی ۔کچھ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ کی تیاری ایران پچھلے 40 سال سے کررہا تھا ۔اور وہ لمبی لڑائی لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں دوسری طر ف امریکی فوجیوں کے باڈ ونگ امریکہ پہنچنے لگے ہیں ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ اب یہ جنگ کیا رخ اختیار کرتی ہے ؟ اشارہ صاف ہے کہ یہ آگ اور پھیلنے والی ہے اور تباہی ہوگی ۔ (انل نریندر)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں