Translater
12 دسمبر 2021
تنازعات کی علامت بنے وسیم رضوی!
پچھلے ڈیڑھ دھائی سے اتر پردیش سنی وقف بورڈ سے وابستہ رہے ہیں وسیم رضوی نے اب ہندو دھرم اپنا لیا ہے ان کا نیا نام جتیندر نرائن سنگھ تیاگی ہے بھلے ہی انہوں نے اسلام ترک کے سناتن دھرم اپنا لیا ہے لیکن وہ اپنے اسلام مخالف بیانوں اور سر گرمیوں کے سبب وہ مسلم پرسنلا بورڈ کے نیتاو¿ں کی آنکھ کی کر کری ہمیشہ بنے رہے ہیں یہ وہی وسیم رضوی ہے جنہیں 2004میں شیعہ پیشوا اور امام جمعہ مولانا کلب جواد کی سفارش پر یوپی شیعہ وقف بورڈ کا چیئر مین بنایا گیا تھا لیکن بعد میں حالات ایسے بدلے کہ خود مولانا کلب جواد کو رضوی کی مخالفت میں سامنے آنا پڑا اور ا ن کی ہی مانگ پر رضوی کے خلاف شیعہ وقف بورڈ میں کرپشن کے معاملوں کو لیکر 2017میں یوگی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سی بی آئی جانچ شروع ہوئی کبھی نو مسجدوں کو ہندوں کو سونپے جانے اور کبھی قطب منار کو ہندوستان کی فرنگی کا داغ بتا کر کبھی رام جنم بھومی بابری مسجد تنازع میں سپریم کورٹ تک میں ہوئی قانونی لڑائی میں کئی بار متنازع بیان دیئے یوپی کے مدرسوں کو آتنکوادی پناہ گاہ قرار دینا اسلامی پرچم پر بنے چاند ستارے کے دائرے میں قابل اعتراض باتیں کہنا ، قرآن شریف کی 26آیات کو ہٹانے کے لئے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے و پیغمبر حضرت محمد صاحب پر کتاب لکھنے تک کو لیکر رضوی تنازعات کی علامت بن گئے رضوی کے اسلام چھوڑنے اور ہندو دھرم اپنانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر چھا رہا ہے دن بھر اسی کو لیکر ٹویٹ پوسٹ ہو تے رہے دیر شام وسیم ٹرینڈ ہو نے لگا اور اس کے ہیز ٹیگ پر 64.200ٹویٹ کئے گئے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
اور اب سعودی حوثیوں میں جنگ
مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں