Translater
01 جنوری 2021
فرضی ٹی آر پی کیس میں ارنب گوسوامی پر رشوت دینے کا الزام !
فرضی ٹی آر پی کیس کی جانچ کر رہی ممبئی کرائم انٹیلی جینس یونٹ نے کورٹ میں ریپبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی پر رشوت دینے کا تحریر میں الزام لگایا ہے فرضی ٹی آر پی کیس میں چھ اکتوبر کو مقدمہ درج کیا گیا تھا تب سے ریپبلک ٹی وی اور دیگر دوسرے چینل تفتیش کے گھیرے میں ہیں لیکن اس کیس میں سرکاری طور سے ممبئی کرائم برانچ نے ارنب گوسوامی کا نام پہلی بار لیا ہے اور عدالت میں کہا کہ ارنب کے دئے گئے روپیوں میں سے بارک کے سابق سی اے او پارتھ داس گپتانے کیا خریدا اس کی بھی جانچ کرنی ہے اور اس کو ضبط کو کرنا ہے اسلئے پارتھ داس گپتا کو حراست میں لیا جائے اس کے بعد عدالت نے اس کو 30دسمبر تک کرائم انٹیلی جینس یونٹ میں بھیج دیا اس کے بعد ایجنسی نے عدالت کو بتایا ملزم کے پاس سے دو موبائل فون ایک لیپ ٹاپ اور ایک آئی پیڈ ضبط کیا ہے اس کی جانچ کی جارہی ہے کرائم برانچ نے داس گپتا کو فرضی ٹی آر پی کیس کا ماسٹر مائنڈ بتایا ہے داس گپتابارک میں 2019تک سی ای او رہے۔اسکے علاوہ بارک میں تقریباً لمبی مدت سی او سے مل رہے رام گڑھیا کا بھی رول رہا ان کو بھی گرفتار کر لیا گیا الزام ہے کہ ان ملزمان نے کچھ دیگر ملزمان کی مدد سے سازش ٹائم ناو¿ کے نمبر ون او ر نمبر دو اور ریپبلک ٹی وی کو ناجائز طریقے سے نمبر ون بنایا اس کیس میں اب تک پندرہ لوگ گرفتار ہوچکے ہیں ۔ ارنب گوسوامی تو ڈیزائنرانائک اور ان کی ماں کمد کو خود کشی کےلئے مبینہ طور ے اکسانے کے معاملے میں پچھلے مہینے گرفتار ہوئے بعد سپریم کورٹ سے انہیں ضمانت ملی تھی۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
اور اب سعودی حوثیوں میں جنگ
مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں