Translater

20 جولائی 2018

راہل گاندھی کی نئی سینا

لمبے انتظار کے بعد پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے ٹھیک پہلے منگل کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی نے سال2019 لوک سبھا چناؤ لڑنے کیلئے اپنی سینا تیار کرلی ہے۔ انہوں نے پارٹی کی سپریم پالیسی ساز ادارہ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی ) کی تشکیل نو کی ہے۔ راہل گاندھی نے کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالنے کے سات مہینے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی بنائی ہے۔ پچھلی ورکنگ کمیٹی کو مارچ میں اجلاس سے پہلے توڑدیا گیا تھا۔ اجلاس میں پارٹی صدر راہل گاندھی کو اپنی ٹیم چننے کے لئے اختیار دیا گیا تھا۔ تب سے راہل کوکمیٹی تشکیل کرنے میں چار مہینے لگ گئے۔ راہل گاندھی کی کانگریس ورکنگ کمیٹی میں کل 51 ممبر ہیں، ان میں 23 ممبر اور 18 مستقل ممبر ،10 خصوصی مندوبین ممبر بنائے گئے ہیں۔ راہل گاندھی نے پہلی بار یووا مورچہ این ایس یو آئی، مہلا کانگریس، انٹیک اور سیوا دل کے پردھانوں کو سی ڈبلیو سی میں خصوصی مندوبین ممبر بنایا گیا ہے۔ کانگریس صدر نے اپنی نئی ٹیم میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو شامل کرکے صاف اشارہ دے دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کانگریس اپنے انہی نوجوان چہروں کے دم پر آگے بڑھے گی۔ حالانکہ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں تجربہ کار لیڈروں کو بھی پوری توجہ دی گئی ہے۔ پارٹی کے سنگٹھن کو آنے والے تین ریاستوں میں اسمبلی چناؤ مثلاً راجستھان، مدھیہ پردیش،چھتیس گڑھ کے سب سے اہم لیڈروں کو خاص طور پر شامل کیا گیا ہے حالانکہ تجربہ کو ترجیح دی گئی ہے۔ راہل کی ورکنگ کمیٹی میں سونیا گاندھی، منموہن سنگھ، موتی لال ووہرا، احمد پٹیل، اشوک گہلوت کو ممبر کے طور پر جگہ ملی ہے۔ وہیں دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت، پی چدمبرم جیسے لیڈروں کو مستقل مندوبین ممبر کے طور پر چنا گیا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے مغربی بنگال، آندھرا پردیش، تلنگانہ، بہار جیسی ریاستوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ جنرل سیکریٹری کے عہدے سے ہٹائے گئے کسی بھی لیڈر کو ورکنگ کمیٹی میں جگہ نہیں دی گئی ہے اسی وجہ سے سی پی جوشی ، موہن پرکاش، بی کے ہری پرساد کو ورکنگ کمیٹی نے ہٹا دیا گیا ہے۔ لال بہادر شاستری کے لڑکے انل شاستری کافی عرصہ سے خصوصی مندوبین ممبر کے طور پر تھے لیکن اس مرتبہ ان کو بھی جگہ نہیں ملی۔ پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ کو ورکنگ کمیٹی میں جگہ نہ ملنا حیرت کرنے والا ضرور ہے۔ مندوبین ممبروں کو جوڑ لیں تو بھی عورتوں کی تعداد 51 میں سے صرف 7 ہے یعنی 15فیصد سے بھی کم۔ حال فی الحال دلت تحریک کی پرچھائی اس کمیٹی کے انتخاب میں نظر آئی۔ دلت چہروں کی شکل میں ملکارجن کھڑگے، کماری شیلجا، پی ایل پنیا کو شامل کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی کی نئی ٹیم کا اصلی امتحان آنے والے اسمبلی چناؤ اور 2019 لوک سبھا چناؤ میں ہوگا۔
(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...