Translater

28 جنوری 2020

اسپیکر کے اختیارات پر غور کریں

دیش کے الگ الگ ریاستوں کی اسمبلیوں میں اکثر اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ ممبران کے برتاﺅ یا فیصلوں کو لے کر ایوان کے اسپیکر نے جو فیصلہ لیا وہ کتنا صحیح ہے اور کتنا انصاف پر مبنی ہے ؟ممبران میں ساجھیداری کرنے والی پارٹیوں کی طرف سے ایسے الزام لگتے رہتے ہیں کیونکہ اسمبلی اسپیکر کسی خاص پارٹی کے ممبر کی شکل میں ہے اس لئے ان کا فیصلہ اس سے متاثر ہوتا ہے ۔منی پور کے ایک وزیر کو ڈسکوالی فالی کئے جانے سے متعلقہ کانگریس ممبران اسمبلی کی ایک عرضی کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے متعلقہ اسمبلی اسپیکر کو چار ہفتے میں اس پر فیصلہ لینے کے لئے کہا ہی ہے ساتھ ہی عدالت نے دل بدل معاملوں پر فیصلہ لینے کے لے ایک مختار نظام قائم کرنے کا پارلیمنٹ کو جو مشورہ دیا ہے وہ زیادہ اہم ترین ہے عدالت کا کہنا تھا کہ ممبران اسمبلی اور ممبران کو ڈسکوالی فائی کرنے سے متعلق ایوان کے اسپیکر کے پاورس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔صاف طور پر عدالت کا مقصد ہے کہ اسپیکر سے مکمل طور پر منصفانہ حیثیت کی امید نہیں کر سکتے کیونکہ وہ بھی کسی سیاسی پارٹی کا ممبر ہوتا ہے عدالت کا یہ تبصرہ قابل غور ہے آئین کے دسویں سیکشن کے تحت دل بدل قانون کی حفاظت کرنا جمہوریت کے لئے بے حد اہم ترین ہے ۔دراصل منی پور کے وزیر جنگلات ٹی شیام کمار 2017میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے لیکن وزیر بننے کے لے بھاجپا میں شامل ہو گئے تھے کانگریس نے دل بدل قانون کے تحت انہیں ڈسکوالی فائی کرنے کے لئے اسپیکر کے سامنے کم سے کم دس عرضیاں دی تھیں لیکن کوئی سماعت نہیں ہوئی اسی معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس روہت ٹن پھلی نریمن کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ممبران نے پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو ڈسکوالی فائی کا فیصلہ لینے کے اسپیکر کے اختیارات پر پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کیونکہ سیاسی پارٹی سے جڑے ہونے کے سبب اسپیکر کے فیصلے میں جانبدارانہ پہلو اپنانے کی گنجائش ہوتی ہے ۔ہر نکتہ سے معاملے کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد عدالت نے کچھ اہم تجاویز دی ہیں جس سے ایوان کی اہمیت اور بھروسہ نہ ختم ہو مثلاََ عدالت نے مرکزی سرکار سے غور کرنے کو کہا ہے کہ کیا ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کو ڈسکوالی فائی پر فیصلہ لینے کا حق اسپیکر کے پاس ہے یا اس کے لئے ریٹائرڈ ججوں کا پینل جیسی آزاد اتھارٹی قائم ہو فطری ہے ہندوستانی جمہوریت کے کردار کو بنائے رکھنے میں ایوان کے اسپیکرس کا چہیتا رول ہے لیکن اس عہدے میں آتے ہی بے لوث اور متضادات نے ہمیں شرمندہ کیا ہے بڑی عدالت نے اس معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے کئی برسوں سے غور و فکر ہو رہا تھا کہ اسپیکر کے عہدے کو کیسے پاک و صاف اور غیر منصفانہ رکھا جائے؟آپ نے جو تجاویز پیش کی ہیں اب مرکزی سرکار کو آگے فیصلہ کرنا ہے جمہوری نظام کو برقرار رکھنے کے لئے اسپیکر کا رول اہم ترین بن جاتا ہے ۔

(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...