Translater
02 فروری 2023
دہلی ہائی کورٹ نے ای ڈی پر لگائی لگام !
پچھلے کافی وقت سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جانچ ایجنسیاں اپنے دائرہ اختیار کو بھول کر غیر ضروری طور سے سرگرم ہو رہی ہیں۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی سرگرمی کولیکر بھی کافی وقت سے سوال کھڑے ہو رہے تھے اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرے اختیار سے باہر جاکر کام کر رہی ہیں۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یعنی ای ڈی ایک بار پھر کسی معاملے کی جانچ شروع کردے تو اس کے دائرے میں آئے کسی بھی شخص کیلئے چھٹکارا پانا بیحد مشکل ہو جاتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ناجائز طریقے سے پیسہ اکٹھا کرنے کے جرائم کیلئے شروع ہوئی جانچ آہستہ آہستہ دوسرے کئی معاملوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ایک بار فائل کھل جائے تو وہ شائد کبھی بند نہ ہو ۔گاہے بگاہے یہ کبھی کھل جاتی ہے اور لوگوں کو حلقان کئے رہتی ہے ۔اکثر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ اپنے دائرے اختیار سے باہر جاکر کام کرتی ہے ۔اب دہلی ہائی کورٹ نے اس کی حد لائن طے کردی ہے ۔عدالت نے کہا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو صرف پیسہ ناجائز طریقے سے کمانے سے متعلق معاملوں میں ہی کاروائی کا اختیار ہے۔اگر کسی معاملے میں اندازہ کی بنیاد پر کاروائی کی گئی ہے تو اس پر متعلقہ حکام کو قانون کے تحت کاروائی کرنی ہوگی اور اس کو سننا ہوگا ۔دہلی ہائی کورٹ کا یہ حکم کچھ عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے آیا ہے ۔ان میں پیسہ اکٹھا کرنے کو لیکر کوئی دلیل نہیں رکھی گئی تھی یہاںتک کہ سی بی آئی نے بھی ایسے کوئی حقائق سامنے نہیں پیش کئے پیسہ اکٹھا کرنے والے ایکٹ کے تحت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو 1کروڑ یا اس سے اوپر کے معاملوں میں ہی جانچ کا حق ہے ۔مگراس نے دوسرے محکموں کے دائرے اختیار میں غیر ضروری دخل ندازی کر بہت سے معاملوں کی جانچ کی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت کم معاملوںمیں مقدمہ درج ہو سکا ہے۔ باقی معاملوں کو بغیر کسی فیصلے کے ختم کرنا پڑا ۔بھلے ہی آمدنی سے زیادہ اثاثے کے معاملے میں شروع ہونے والی ای ڈی جانچ سے سب سے زیادہ گھبرانے والے لوگوںمیں سیاست داں اہم ہوتے ہیں لیکن دہلی ہائی کورٹ کے ای ڈی کو صرف پیسہ اکٹھا کرنے کے جرائم کی جانچ تک محدود رہنے کی ہدایت سے بہت سے لوگوں کو راحت ملنے کی امید ہے ۔ ہائی کورٹ کے مطابق جانچ ایجنسی صرف اندازے کی بنیاد پر یہ طے نہیں کرسکتی کہ کوئی جرم ہوا ہے یا نہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جس جرم کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے اس کی جانچ کرنی ہوگی اور اس سلسلے میں قانونی طور سے مجاز وکیلوں کے ذریعے سماعت کرنی ہوگی۔ در اصل پچھلے کچھ برسوں میں جس طرح سے سی بی آئی،انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور انکم ٹیکس محکموں نے ٹارگیٹ کرکے کئی لوگوں پر چھاپے مارے اس سے یہ کہا جانے لگا کہ یہ ایجنسیاں سرکار کے اشارے پر کام کر رہی ہیں۔ اس طرح وہ اپنے دائرے اختیار سے باہر جاکر بھی کام کررہی ہیں ۔ ان کا مقصد معاملے کی جانچ کرنے سے زیادہ لوگوں کو پریشان کرنا ہے اس لئے یہ الزام نئے نہیں ہیں۔ سبھی حکومتوںپر ایسے الزام لگتے ہیں ۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کیلئے دہلی ہائی کورٹ کا تازہ حکم ایک سبق ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں