Translater

20 اکتوبر 2019

نرملا سیتا رمن کو ان کے شوہر نے ہی معیشت پر گھیرا

اقتصادی مندی پراپوزیشن اور ماہر اقتصادیات کے الزا مات سے انکار کرنے والی مودی حکومت کو اب گھر میں ہی تنقید کا شکار ہونا پڑ رہا ہے ماہراقتصادیات اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے شوہر پراکلاپربھاکر نے کہا ہے کہ سرکار مندی کی اصلیت کو مسترد کر رہے ہے اسے کانگریس کے اقتصادی ماڈل پر معیشت کی حالت بہتر بنانی چاہئے ایک اخبار کے کالم میں لکھے مضمون میں پربھاکر نے مندی کے اشو پر تشویش جتائی ہے اور کہا سرکار آنکھیں بندکر مسئلے سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے جبکہ ایک کے بعد ایک سیکٹر مندی کی چنوتیوں سے لڑ رہاہے ۔تو بھاجپا سرکار کو یہ سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ سستی کی وجہ کیا ہے ؟اس سے مقابلہ کے لئے سرکار کو طریقہ کو بھی پراکلا پربھاکرنے غلط بتایا کہا کہ مودی سرکار کے پاس دیس کی معیشت کے لئے واضح اقدام کی کوئی قوت ارادی نہیں ہے اور معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کوئی روڈ میپ پیش کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ادھر وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جواب میںکہا سرکار نے کئی فلاحی اور بڑ ی تبدیلی والے قدم اٹھائے ہیں پربھاکر نے بھاجپا کے نہرو ماڈل کی تقدیر پر لکھایہ باعث تشویش ہے کہ سرکار کی اقتصادی آڈیا لوجی اور اس کا اظہار محض نہرو ماڈل کی تنقید تک محدود ہے جو سیاسی ہو سکتاہے اسے کبھی معیشت پر نکتہ چینی کے طور پر نہیں دیکھاجا سکتا انہوں نے مشورہ دیا کہ نرسمہا راو ¿ اور منموہن سنگھ کی حکومت کی اقتصادی پالیشیوں سے سبق لیں اور اس پر چل کر معیشت کو بحران سے نکالا جاسکتا ہے پربھاکر کی تنقید پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جم کر نکتہ چینی کی ان کاکہناتھا کہ جی ایس پی اور نوٹ بندی نے دیس کی معیشت کو چوپٹ کر دیا ہے اگر یہی حال رہا تو چھ مہنے کے اندر دیس کی معیشت تار تار ہو جائے گی کانگریس کے راہل گاندھی نو میں ایک چناو ¿ ریلی سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کالے دھن کو واپس لانے کی بات کر نوٹ بندی کردی اور دیس کے عوام آدمی کولائن میں کھڑا کر دیا اس میں کسان بے روزگار اور عورتیں سب شامل تھے لیکن کچھ بڑے لوگ ایک دن بھی لائن میں نظر نہیں آئے اس کے بعد جی ایس ٹی لاگو کرکے چھوٹے کاروباریوں کی کمر توڑ دی اور جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے دس پندرہ صنعتی گھرانوں کو فائدہ پہنچایا گیا ۔بے روزگاری پر راہل نے سرکار کو آڑے ہاتھوںلیتے ہوئے کہا ہریانہ میں ماروتی ٹاٹا جیسی صنعتیں بند ہو چکی ہیں کروڑو ں نوجوانوں کا روزگار چھن چکا ہے اور نریندرمودی من کی بات کر تے ہیں لیکن ہم کام کی بات کرتے ہیں ۔بھاجپا اورآر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے راہل نے کہا بھاجپا ذات مذہب کی بنیاد پر امیر اور غریب سے ہندو کو مسلمانوں سے لڑانے کاکام کرتی ہے ۔سرکاران کے وزیر بے شک پراکلا پربھاکر کی تنقید کو یہ کہ کر ٹال دیں کہ وہ کانگریسی نظریہ کے ہیں لیکن اس سے حقیقت بدلنے والی نہیں ۔

(انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور ی...