Translater

21 جون 2012

اپنی ہی بچی سے آبروریزی کرنے والا کلجگی فرانسیسی حیوان

گذشتہ دنوں ایک انتہائی تکلیف دہ اور نفرت آمیز قصہ روشنی میں آیا ہے بینگلورو سے موصولہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایک فرانسیسی سفارتکار پاسکل ماجوریا پر اس کی بیوی و ہندوستانی شہری سجاجونس نے اپنی ساڑھے تین سال کی بچی سے بد فعلی کرنے کا الزام لگایا ہے۔بینگلورومیں واقع فرانس کے قونصل خانے میں پاسکل ماجوریا ڈپٹی چیف ہیں۔ الزام لگنے کے بعد بینگلورو پولیس کے لئے یہ پریشانی کھڑی ہوگئی کہ ڈپلومیٹ کو گرفتار کر کیا اس پر بھارت میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ اگر سفارکار کو ڈپلومیٹک سرپرستی حاصل ہے تو اس پربھارت میں مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا لیکن پھر یہ صاف ہوا کہ ملزم کو کوئی ڈپلومیٹک سرپرستی حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ ایک ڈپلومیٹ نہیں ہے۔ اس کے پاس سروسز پاسپورٹ ہے ۔ ڈپلومیٹک پاسپورٹ نہیں ہے۔ اسے ڈپلومیٹک چھوٹ حاصل نہیں ہے اور اس کے خلاف بھارت میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔سفارتکار کی بیوی سجا جونس ماجوریا نے وزیر داخلہ پی چدمبرم اور وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کو ایک خط لکھ کر حکومت سے یہ یقینی بنانے کی اپیل کی ہے کہ اس کے شوہر کو تب تک دیش چھوڑنے سے روک دیا جائے جب تک سبھی قانونی تقاضے پورے نہیں ہوجاتے اور کسی بھی حالت میں اسے بچوں کی دیکھ بھال ملنی چاہئے جوکہ فرانس کے شہری ہیں۔ فرانس کے کونسل جنرل کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمرشل سفارتخانہ پوری طرح تعاون دے رہا ہے۔ پولیس نے سفارتکار کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ37کے تحت آبروریزی کا معاملہ درج کرلیا ہے۔ اپنی ساڑھے تین سال کی بیٹی کے ساتھ بدفعلی کے ملزم فرانسیسی سفارتخانے کے افسر پاسکل کو منگل کی صبح بینگلورو میں گرفتار کیا گیا۔ ایک دن پہلے ہی وزارت داخلہ نے سٹی پولیس سے صاف طور پر کہا تھا کہ ملزم کو کسی طرح کی سفارتی رعایت حاصل نہیں ہے اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔ پولیس کے مطابق ہائی گرانڈس تھانے کی پولیس نے پاسکل کو حراست میں لیا ہے۔ یہاں فرانسیسی سفارتخانہ اسی تھانے کے تحت آتا ہے۔ کیرل کی باشندہ سجا جونس نے اپنے شوہر پر بیٹی سے بدتمیزی کا الزام لگایا تھا۔ اس کے گھر پر کام کرنے والی خاتون نے بتایا تھا کہ اس کے شوہر نے ہی اس کی بیٹی کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر (لا اینڈ آرڈر) سنیل کمار نے بتایا کہ متاثرہ بچی کا میڈیکل کرایا گیا ہے اس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ ایسے شیطان والد کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے۔ اسے ایک غیر ملکی ہونے کا کوئی فائدنہ نہیں ملنا چاہئے۔ وہ ایک آبروریز ہے اور ایسی گھناؤنی حرکت کرنے والے کو بخشا نہیں جاسکتا۔ (انل نریندر)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور ی...