ایپسٹین سے میری ملاقات ہوئی تھی!

ساری دنیا میں اس وقت اس ایپسٹین فائلس کا تذکرہ جاری ہے ۔امریکہ میں نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانوں کی اسمگلنگ کے ملزم عرب پتی جیفری ایپسٹین سے جڑے خفیہ دستاویز سامنے آتے ہی دنیا کے اقتدار اور رسوخ کے گلیاروں میں ہلچل مچ گئی ہے ۔جیفری ایپسٹین کی پوری کہانی کسی اور دن بتاؤںگا ،آج تو ایپسٹین فائلس اور بھارت کے ایک وزیر کا نام سامنے آنے کے بارے میں بتاؤں گا ۔ایک طویل تعطل کے بعد بدھوار کو لوک سبھا میں بجٹ پر بولتے ہوئے اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے امریکہ اور بھارت کی ٹریڈ ڈیل پر مودی سرکار پر کئی الزام لگائے انہوں نے کئی اہم اشوز پر سوال اٹھائے۔ اپنی تقریر میں لیڈر آف اپوزیش جیفری ایپسٹین فائلس، انل امبانی اور اڈانی سے وابستہ معاملوں پر بھی بولے۔ انہوں نے انل امبانی اور مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری پر بھی الزام لگائے ۔راہل گاندھی کی جانب سے ان اشوز کو اٹھانے کے بعد حکمراں فریق اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ بڑھ گیا۔ کیوں کہ لوک سبھا میں ہوئی بحث میں ہر دیپ سنگھ پوری کا نام آگیا تھا ۔اس لئے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بعد میں باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کی اور اپنا موقف رکھا ۔ہردیپ پوری نے کہا کہ ایپسٹین سے ان کی ملاقات صرف تین چار موقعوں پر ہوئی وہ بھی ایک نمائندہ وفد کے حصہ کے طور پر ہوئی تھی اور ان کے ساتھ صرف ایک ای میل کا تبادلہ ہوا تھا ۔پارلیمانی وزیر کرن رجیجو نے راہل گاندھی کے الزامات کو بے بنیاد بتایا اور اسپیکر سے درخواست کی کہ راہل گاندھی کی تقریر کی غلط باتوں کو کاروائی سے ہٹا دیاجائے ۔اُدھر راہل گاندھی نے ایپسٹین فائلس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ہی انل امبانی کا تعارف امریکی سرمایہ کار اور جنسی استحصال کرمنل جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ایک بزنس مین ہے انل امبانی ، میں پوچھا چاہتاہوں کہ وہ جیل میں کیوں نہیں ہے ۔میں ہردیپ پوری سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں جنہوں نے انہیں ایپسٹین سے تعارف کروایا تھا ۔ہردیپ سنگھ پوری نے اپنی پریس کانفرنس میں کئی باتیں کہیں انہوں نے کہاایپسٹین سے وابستہ تیس لاکھ فائلیں ریلز ہوئی ہیں اور میں نیویارک میں 8 سال رہا ۔میں اقوام متحدہ میں بھارت کا سفیر بن کر 2009 میں پہنچا تھا اور 2017 میں میں وزیر بنا اور 8 برسوں میں ممکنہ طور پر تین یا چار بار میٹنگ کا سلسلہ رہا ۔ امریکہ میں ہندوستانی سفیر کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے کچھ ماہ بعد مجھے انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ ( آئی پی آئی ) میں مدعو کیا گیا تھا ۔ میں آئی سی ایم کے چیرمین جو آسٹریلیا کے سابق وزیراعظم تھے کے ساتھ ایک ڈیلی گیشن میں ایپسٹین سے ملا تھا۔ ہردیپ سنگھ پوری کا کہنا تھا کہ ایپسٹین سے جڑے دیگر معاملوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ہردیپ سنگھ پوری کی پریس کانفرنس کے بعد کانگریس کے سینئرلیڈر پون کھیڑا نے ایکس پر پوسٹ ڈالتے ہوئے پوری سے کچھ سوال پوچھے ۔پون کھڑا نے لکھا ۔۔ ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ ان کے روابط نے انہیں ریڈہاف مین سے ملوایا تھا ۔لیکن جو انہوں نے نہیں کہا وہ زیادہ معنی رکھتا ہے ۔4 اکتوبر 2014 کو ایپسٹین نے ہردیپ سنگھ پوری کو ای میل کیا ۔کیا ریڈ سے ملاقات ہوئی؟ پوری نے جواب دیا میں آج دوپہر ایک میٹنگ کے لئے سین فرانسسکو میں ہوں میرے دوست تم تو چنج کروا دیتے ہو کوئی صلاح؟ اس کے بعد پون کھیڑا نے ایکس پر کی گئی پوسٹ میں 6 سوال پوچھے ، یہ سوال تھے پہلا : ایپسٹین کی ریڈ کے ساتھ ان ملاقاتوں کے بارے میں پہلے ہی کیسے پتہ چل گیا ؟ دوسرا : کیا ایپسٹین ہی وہ کانٹیکٹ تھا جس نے ریڈ ہاف مین کے ساتھ ملاقات کروائی تھی ؟ تیسرا: ہردیپ اس سے ملاقات کی جانکاری کیوں ڈسکس کررہے تھے؟ چوتھا: ایپسٹین کو دوست کہہ کر کیوں مخاطب کیا گیا؟ پانچواں :ایپسٹین ہردیپ کے لئے کیا کروا رہا تھا؟ چٹھا: اگر ان کا تعلق مہتا ایک سمانگونش یا سطحی تھا ، تو ہردیپ سنگھ پوری ایپسٹین سے صلاح کیوں مانگ رہے تھے ۔ایپسٹین فائلس میں لاکھوں دستاویز ، ویڈیو ، ای میل ہیں ۔ابھی بہت سے راز کھلنے باقی ہیں ۔ان فائلس کے انکشافات کے سبب اب تک دس دیشوںمیں اہم ترین عہدوں پر بیٹھے سیاستداں ، صنعتکار ،افسر شاہ ، راج گھرانے سے جڑے اہم ترین لوگوں کے استعفیٰ ہو چکے ہیں اور 80 کی جانچ جاری ہے ۔ابھی تو معاملہ شروع ہوا ہے ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!