یہ جان لیوا کورین لووگیم !

غازی آباد میں تین سگی بہنوں کا نویں منزل سے کود کر جان دینے کے واقعہ نے ایک بار پھر ان جان لیوا گیمس کی بھاری قیمت چکانے کی یاد دلادی ہے ۔اس واقعہ کو محض خودکشی کہنا سچائی سے آنکھیں موندھنے جیسا ہوگا ۔ان تین نابالغ بچیوں کی دردناک موت نے ایک بار پھر کئی سوال کھڑے کر دئیے ہیں ۔غازی آباد کے شالیمار گارڈن کی یہ واردات کئی دنوں سے سرخیوں میں ہے۔ اور کئی طرح کی باتیں کہی جارہی ہیں ۔شالیمار گارڈن کے اے سی پی اتل کمار سنگھ نے صحافیوں کو بتایا 4 فروری کی رات تقریباً 2.15بجے اطلاع ملی کہ ٹیلا موڑ پولیس اسٹیشن علاقہ کے تحت بھارت سٹی میں ایک واردات ہوئی ہے ۔اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی وہاں تین بچیوں کی اونچی عمارت سے گرنے کے سبب موت ہو گئی تھی ۔انہیں ایمبولینس کے ذریعے لونی کے ایک ہسپتا ل لایا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے تینوں کو مرا ہوا قرار دے دیا ۔تینوں بہنوں کے نام ہیں 16 سالہ نشیکا ، 14 سالہ پراچی اور 12 سالہ پاکھی ۔12،14اور 16 کی عمر تو سپنوں کے پنکھ لگا کر اڑنے کی ہوتی ہے ۔اس عمر میں موت کو گلے لگانا بھلا کس کے گلے اتر سکتا ہے؟ دراصل، حالات اور صورتحال اور احساسی جذبات کی جھوٹی دنیا نے ان معصوموں کو موت کی در تک پہنچایا ۔یہ ایک ڈیجیٹل مرڈر ہے ۔یہ تکلیف دہ حادثہ خونی ڈیجیٹل ایلگوریدم کا نتیجہ ہے ، جو موبائل کے ذریعے ہم سب کے گھروں میں گھس آیا ہے ۔یہ واردات کو رین لوو گیم اور اس کے پیچھے ایلگوریدم کا نتیجہ ہے ۔شروعاتی جانچ میں موبائل فون اور کوریائی کلچر کے تئیں جنون اس واردات کی خاص وجہ ہوسکتی ہے ۔لڑکیاں کوریائی سنگیت ،ڈرامہ ،ہستیاں ،جاپانی فلمیں اور ڈوریمون کے علاوہ شن-چن جیسے کارٹونوں کے ساتھ-ساتھ آف لائن گیمس کی شوقین تھیں ۔ساتھ ہی وہ کوریائی کلچر سے اس حد تک متاثر تھیں کہ انہوں نے اپنے نام بھی بدل لئے تھےلیکن بلو-وہیل جیسے ٹاسک پر مبنی گیمس کو اس واردات کا ایک محض یا اہم وجہ نہیں ماناجاسکتا ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینوں بچیوں کی موت جسم سے زیادہ خون نکلنے اور چوٹ سے ہوئی ہے ۔اونچائی سے گرنے کے سبب کئی ہڈیاں ٹوٹی تھیں ۔پریوار مالی تنگی کی مار جھیل رہا تھا اور گھر میں کلیش نے بھی چیزیں مشکل بنا دی تھیں ۔کمرے میں ایک سوسائیڈ نوٹ ملا جس میں ساری پاپا لکھا ہوا تھا اس واردات کے بعد بچیوں کے درمیان فون اور ایڈکشن کو لے کر پھر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں ۔کئی ماں باپ کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے رات کو سو ہی نہیں پارہے ہیں ۔وہ اتنے ڈرے ہوئے ہیں ۔بال منو وگیانک بونائی کہتے ہیں کہ فون ایڈکشن اور کیمیکل وغیرہ کی لت جیسا ہی ہے ۔لڑکپن ایک نازک حالت ہے، جہاں بدلتے سماج کے ساتھ ، ٹیکنالوجی کا بھی حملہ بہہ رہا ہے ۔ اس صورت میں جب کوئی لڑکا یا لڑکی سے گھر والے ایک دم سے فون چھین لیتے ہیں تو ایک مصیبت سی کھڑی ہو جاتی ہے ۔ایک بچے کے لئے یہ ایک کیمیائی چیز کے ایڈکشن سے کم نہیں ہے ۔ڈاکٹر بھاونا ورما بتاتی ہیں کہ لمبے عرصے سے اسکول نہ جانے کا مطلب پڑھائی چھوٹنے سے نہیں ہے ۔یہ ذہنی لتوں کا ایک ملا جلا کمزوریوں کا ایک سلسلہ کھڑا کر دیتی ہیں ۔اسکول کے لڑکوں کی صحت ڈولپ کرنے کے لئے صرف حقائق سیکھنے کی جگہ سے کہیں زیادہ ایک اہم اسٹومر کے طور پر کام کرتا ہے ۔میں نے کئی لڑکوں اور پریواروں کو صلاح دی ہے جہاں جوڈو کے -پاپ تھے ۔ڈرامہ کوریائی بیوٹی رجحان اور آئیڈیلس کے تئیں تیزی سے رغبت ایک عام رمی سے کہیں زیادہ گہرا ہو گیا ہے جو بچوں کے لئے بہت نقصان دہ ہوچکا ہے ۔غازی آباد کی واردات ہر اس ماں باپ کے لئے ایک چیتاونی ہے جو یہ سوچ کر مطمئن ہو بیٹھے ہیں کہ ان کا بچہ کمرے میں محفوظ موبائل چلا رہا ہے ۔کورین لوو گیم جیسے ڈیجیٹل کھیل بچوں کے جذبات اور عدم تحفظ کا ٹرینڈ کا فائدہ اٹھا کر انہیں ٹاسک پورا کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں ۔اسی کا نتیجہ غازی آباد کے اس دل دہلا دینے والی واردات کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔ایسے خطرناک ، جان لیو ا گیمس پر فوراً پابندی لگائی جانی چاہیے۔ (انل نریندر)

تبصرے