ٹرمپ جھکے گا بس جھکانے والاچاہیے!

امریکہ کے سب سے طاقتور ، ریمبو ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے سامنے جھُک گئے ہیں ۔پچھلے ایک پندرواڑے سے زیادہ ٹرمپ کی فوجوں سمندری جہازوں ، فائٹ جیٹس نے ایران کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے لیکن ٹرمپ نے ابھی تک حملہ نہیں کیا ۔اربوں ڈالر خرچ کر بھی اس کی ہمّت نہیں ہوپارہی ہے کہ ایران پر حملہ کرے ۔دراصل ایران نے دکھا دیا ہے کہ فوجی تیاری کیسی ہے ۔ایران کے پاس ایسی ایسی میزائلیں ہیں جو اسرائیل تو چھوڑیے امریکہ تک مار کر سکتی ہیں ۔وسط مشرق میں جہاں جہاں بھی امریکی فوجی اڈّے ہیں وہ سب ایران کی میزائلوں کی رینج میں ہیں اور یہی حقیقت سعودی عرب، قطر ،مصر ،کوئیت وغیرہ ارب ملکوں کو ستارہاہے ۔اسرائیل نے تو 12 دن کی جنگ میں دیکھ ہی لیا تھا کہ ایران کتنا تباہی کر سکتا ہے اور اسے ڈر ہے کہ اب اگر لڑائی چھڑی تو وہ تو نقشہ سے ہی مٹ سکتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ آگے کیسے بڑھے وہ اتنے آگے آچکا ہے اب پیچھے ہٹنا بھی ناک کٹانے جیسا ہوگا ۔اس لئے کچھ وقت گین کرنے کے لئے ٹرمپ نے بات چیت کا راستہ چنا ہے ۔عمان میں امریکہ اور ایران کے بیچ درپردہ بات چیت کا پہلا دور پورہ ہو چکا ہے دونوں فریق آگے بات چیت جاری رکھنے پر رضامند ہوئے ہیں ، لیکن کشیدگی برقرار ہے اور جنگ کی تیاری پوری چل رہی ہے ۔خلیجی دیش عمان کی راجدھانی مسقط میں جمعہ کو امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان درپردہ بات چیت ہوئی ۔دونوں دیش آمنے سامنے نہیں بیٹھے بلکہ عمان کے وزیر خارجہ ودوالاسیدی ایک پیغام رساںکے کر دار میں رہے ۔ایران کی جانب سے وزیرخارجہ عباس اشرافی شامل ہوئے جبکہ امریکہ کی طرف سے اسپیشل نمائندے اسٹیو وٹکاف اور ٹرمپ کے داماد نیریڈ کوئینر موجود رہے ۔بات چیت سے ٹھیک پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کھلی چنوتی دے چکے تھے کہ اگر ایران نے نیوکلیائی معاہدے پر دستخط نہیں کئے یا اپنی میزائلوں کی دوری کم نہیں کی تو امریکہ فوجی کاروائی کر سکتا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود ایران نے دو ٹوک کہا کہ نہ تو اس کا یورینیم افزودگی بند ہوگی ، نہ ہی وہ اپنے میزائل پروڈکشن کو محدود یا کم کرے گا اور نہ ہی اپنے پراکسیوں حزب اللہ ، حوثی ، حماس ،یمن وغیرہ کو اپنی حمایت بند کرے گا ۔ہاں وہ امریکہ کے ساتھ اپنے نیوکلیئر پروڈکشن پر بات کرسکتا ہے ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس اشرافی نے قاہرہ میں کہا کہ نیوکلیائی پروگرام کو لے کر امریکہ کے ساتھ ہوئے مذاکرات کے بعد وہاں اپنا رخ اپناتے ہوئے اتوار کو کہا کہ طاقتور ملکوں کے آگے جھکنے نہ جھکنے سے ایران کو طاقت ملتی ہے ۔اشرافی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کا نیادور جلد شروع ہوگا ۔انہوں نے ایک دن پہلے ہوئی بات چیت کو ایک اچھی شروعات بتایا، ساتھ ہی خبردار کیا کہ بھروسہ پھر سے بنانے میں وقت لگے گا ۔الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اشرافی نے یہ بھی صاف کیا کہ تہران اپنے یورینیم انرچمنٹ پروگرام کو نہیں چھوڑے گا ۔جسے انہوں نے ایک ایسا اختیار کہا جسے الگ نہیں کیاجاسکتا۔انہوںنے آگے کہا کہ ان کا دیش ایک ایسے ایگریمنٹ کے لئے تیار ہے جو بین الاقوامی برادری کو بھروسہ دلائے اور ساتھ ہی اس کی افزودگی سرگرمیوں کو بھی بچائے ۔انٹرویو کے دوران انہوں نے امریکہ کی اس مانگ کو بھی مسترد کر دیا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام پر روک لگائے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری جانب بات چیت ناکام ہونے پر ایران کو خطرناک انجام بھگتنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نیوکلیائی سمجھوتہ کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے وینزویلا سے بھی سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔اب دیکھنا ہے کہ وسط مشرق میں امن ہوتا ہے یا جنگ ۔ایران اپنے موقف پر اڑا ہواہے اور کہیں بھی جھکنے کو تیار نہیں ۔پہلا راؤنڈ تو ایران نے جیت لیا ہے ۔ اب گیند ٹرمپ کے پالے میں ہے ۔دیکھتے ہیں وسط مشرق میں امن ہوتا ہے یا جنگ ؟ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!