ٹریڈ ڈیل میں زراعت سیکٹر پر تنازعہ!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور امریکہ کے درمیان ہوئی ٹریڈ ڈیل پر اتفاق رائے بننے اور ساتھ ہی بھارت پر امریکی ٹیرف کو کم کرتے ہوئے 18 فیصد کرنے کی جانکاری دی ۔حالانکہ اس ٹریڈ ڈیل کی مفصل معلومات آنا ابھی باقی ہیں ۔لیکن وزیراعظم نریندر مودی سمیت بھارت سرکار کے کئی وزراء نے اسے ایک بڑا کارنامہ بتایاہے لیکن اپوزیشن لیڈران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ٹریڈ ڈیل میں کسانوں اور ڈیری سیکٹر کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے پارلیمنٹ میں کہا کہ بھارت نے اپنے ایگریکلچر اور ڈیری سیکٹروں کے مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے ۔گوئل نے کہا کہ ٹریڈ ڈیل پر آخری دور کی بات چیت میں تفصیلات طے کی جارہی ہیں اور بہت جلد بھارت اور امریکہ کی جانب سے اس پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا ۔ٹرمپ نے دوسری جانب اس کی سوشل میڈیاپر جو جانکاری دی اس میں کہا گیا ہے کہ بھارت امریکی سامانوں پر ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئرس کو زیرو کرے گا۔ انہوں نے آگے کہا کہ وزیراعظم مودی نے امریکہ سے زیادہ خرید پر رضامندی جتائی ہے ۔جس میں 500 ارب ڈالر سے زیادہ کی امریکی اینرجی ، ٹیکنالوجی ،زراعت ،کوئلہ اور دیگر چیزوں کی خرید شامل ہے ۔اس کے بعد امریکی وزیر زراعت بروک رولنس نے بھی ا س ڈیل کو امریکی کسانوں کے لئے فائدہ مند بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی زرعی چیزوں کے بھارت کے وسیع بازار تک پہنچ بڑھنے اور اس سے 1.3 ارب ڈالر کے بھارت کے ساتھ امریکی زرعی تجارت خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی ۔بھارت کی تشویشات پر اگر ہم نظر ڈالیں تو ایک رپورٹ کے مطابق ، بھارت میں کھیتی سے دیش کی آدھی آبادی یعنی 70 کروڑ لوگوں کا کھان پان ہورہا ہے اور یہ سیکٹر بھارت کی ریڑھ کی ہڈی بنا ہوا ہے ۔کھیتی بھارت کے قریب آدھے کام گاروں کو روزگار دیتی ہے ۔امریکہ کئی برسوں سے بھارت پر زراعت سیکٹر کی تجارت کھولنے کے لئے دباؤبنا رہا ہے ۔بھارت غذائی سیکورٹی ، گزر بسر اور لاکھوں کسانوں کے مفاد کا حوالہ دے کر اس سے بچتا رہا ہے ۔بھارت اور امریکہ کے درمیان زرعی تجارت 8 ارب ڈالر کی ہے جس میں بھارت چاول ،جھینگا مچھلی ،مسالے ایکسپورٹ کرتا ہے اور امریکہ میوے ، اور اخروٹ اور دالیں بھیجتا ہے ۔امریکہ ان اپنے 45 ارب ڈالر کے تجارت خسارے کو کم کرنے کے لئے مکّا ، سویا بین اور کپاس کے بڑی زرعی ایکسپورٹ کے لئے دروازے کھولے جانے کی بھی مانگ کرتا رہا ہے ۔ماہرین کو ڈر ہے کہ ٹیرف رعایتوں کو لے کر بھارت کو اپنے کم از کم ایم ایس پی اور عام خرید کو کم کرنے کے لئے دباؤ ڈال سکتی ہے ۔یہ دونوں ہندوستانی کسانوں کے اہم کوچ ہیں ، جو انہیں اپنی فصلوں کے مناسب دام کی گارنٹی دے کر انہیں قیمتوں میں اچانک کمی سے بچاتی ہے اور اناج خرید کو یقینی کرتی ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نیتی آیوگ کے ایک تازہ دستاویز میں مجوزہ بھارت امریکہ تجارت معاہدے کے تحت چاول ، ڈیری ،مرغی پالن ،مکّا ،سیب ،بادام اور جی ایم سویا سمیت امریکی زرعی درآمدات پر ٹیرف کٹوتی کی سفارش کی گئی ہے ۔اس ٹریڈ ڈیل میں کیا کیا شرطیں ہیں یا کیا کچھ امریکہ نے مانگا ہے یا ہم نے قبول کیا ہے اسے صاف کرنا چاہیے ۔کیا بھارت سرکار نے زراعت ،ڈیری سیکٹر کے دروازے بھی کھول دئیے ہیں ۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!