منی کارنیکا گھاٹ پر اہلیابائی کی مورتی کو لے کر تنازعہ
اتر پردیش کا وارانسی شہر پچھلے کچھ دنوں سے سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔ ہندوؤں کی دھارمک نگری کی شکل میں مشہور وارانسی وزیراعظم نریندر مودی کا پارلیمانی حلقہ بھی ہے۔وہ 2024 کے لوک سبھا چناؤ میں یہاں سے تیسری بار منتخب ہوئے ہیں ۔وزیراعظم کا پارلیمانی حلقہ ہونے کی وجہ سے وارانسی میں ترقی کے کئی پروجیکٹ چل رہے ہیں ۔اسی کڑی میں تاریخی منی کارنیکا گھاٹ کی بھی تزئین کاری کی جارہی ہے ۔کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے اس کے لئے پہلے پرانے ڈھانچے کو توڑا گیا ہے اس توڑ پھوڑ کو لے کر مقامی لوگ ناراض بھی ہیں ۔کاشی کے پال سماج کے صدر مہندر پال کہتےہیں کہ جب مورتی توڑی گئیں تو انہوں نے احتجاج کیا تھا ۔کئی لوگوں کا الزام ہے کہ وہاں موجود اندور کے سابق شاہی گھرانے کی اہلیہ بائی ہولکر کی مورتی بھی ٹوٹ گئی ہے ۔لیکن وارانسی کے میئر اشوک تیواری اس سے صاف انکار کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مورتی محفوظ رکھی گئی ہے ، جس کے بعد اس کو لگا دیاجائے گا۔ اہلیہ بائی ہولکر کی مورتی ٹوٹنے کے دعوؤں کے بعد وہاں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ۔پولیس نے اس معاملے میں کئی لوگوں کو حراست میں بھی لیا ۔احتجاجی مظاہرے میں شامل کاشی کے پال سماج کے صدر مہندر پال کہتے ہیں ،اہلیہ بائی ہولکر ہم لوگوں کی آبائی نژاد رہی ہیں ۔اور وہ پال سماج کی خاتون تھیں انہوںنے دعویٰ کیا کہ ہم لوگ موقع پر پہنچے تھے اور توڑ پھوڑ دیکھی تھی ۔جے سی بی لگاکر مورتی کو توڑا جارہا تھا اس لئے جب ان کی مورتی توڑی گئی تو ہم نے احتجاج کیا ۔لیکن پولیس نے ہمیں وہاں جانے نہیں دیا ۔ویسے تو وارانسی میں 80 سےزیادہ گھاٹ ہیں لیکن منی کارنیکا گھاٹ کو دھارمک شکل سے انتہائی اہم ترین ماناجاتا ہے ۔اسی گھاٹ کی تزئین کاری کے لئے کام شروع ہوا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تزئین کاری کے نام پر قدیم روایتوں اور شکلوں سے چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے ۔اجے شرما کاشی میں مورتیوں کو لگانے کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا جہاں جو ٹوٹی ہے وہ منی ٹوٹی ہے ۔میرا احتجاج قدیم وراثتوں کے تحفظ کے لئے ہے۔ اور وکاس کا کوئی احتجاج نہیں ہے ۔تزئین کاری اور خوبصورت شکل دینے کا بھی یہاں کوئی شخص مخالفت نہیں کرتا ۔اجے شرما کہتے ہیں اہلیہ وائی کی جو مورتی تھی یا گنیش جی کی مورتی تھی یا گنگا سوروپ کی جو مورتی تھی وہ ٹوٹی ہوئی نہیں ہے ۔لیکن وارانسی کے میئر اشوک تیواری نے سبھی الزامات کی تردید کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سبھی مورتیاں محفوظ کی گئی ہیں اور گھاٹ کے وکاس کے بعد انہیں لگا دیا جا ئے گا ۔انہوں نے کہا کہ اسے جدید ترین سہولیات سے آراستہ کیا جاسکے ۔اس کے تحت خاص کر برسات کے موسم میں شوداہ میں آسانی ہوگی ۔اشوک تیواری نے بتایا انتم سنسکار کے لئے جانے والے لوگوں کے لئے اپروچ ریمپ ، ریمپ رجسٹریشن ،دفتر اور صاف پانی پینے کا انتظام بھی کیا جائے گا ۔اشوک تیواری کا دعویٰ ہے کہ یہ کام دو م راجہ کے کہنے پر ہی وزیراعظم نے شروع کرایا ہے ۔حالانکہ اس تنازعہ کے درمیان پھر وکاس کا کام جاری ہے ۔اس جگہ پر شوو داہ کا کام چلتا رہتا ہے۔ روایت ہے کہ یہاں انتم سنسکار ہونے سے موکش حاصل ہوتا ہے ۔
-انل نریندر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں