بہار میں خشک سالی کی مار !

دیش کے کئی علاقوں میں جہاں تیز بارش اور سیلاب سے لوگ پریشان ہیں وہیں بہار بارش کی کمی کا سامنا کر رہا ہے ۔ موسم محکمے کی مطابق اس سال بہار میں اب تک اوسط سے قریب آدھی بارش ہوئی ہے ۔ جبکہ ریاست کے 16اضلاع میں اوسط کے مقابلے میں آدھی بھی بارش نہیں ہوئی ہے۔ کم بارش کی وجہ سے دھان کی فصل بوائی بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ جس سے لاکھوں کسانوں کے سامنے مالی بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ بہار میں قریب 36لاکھ ایکڑ زمین میں اس سال دھان کی کھیتی ہونی تھی لیکن بارش نہ ہونے کی وجہ سے دھان کی آدھی پود بھی نہیں لگ پائی۔ وہیں اب پانی کی کمی سے کئی علاقوں میں جانور بھی مرنے لگے ہیں۔ بانکا فتہر پنچایت کے مرزا پور گاو¿ں کے دھرمندر مشرا کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں اس سال اب تک صر ف ایک فیصدی دھان کی پود لگی ہے ۔ اس بار پورا کا پورا بہار سوکھ گیا ہے ۔ ہر جگہ پانی کی کمی ہوگئی ہے ۔ پھر بھی ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں پانی کی کمی نہیں ہے ۔ لیکن اس مرتبہ ہمارے گاو¿ں میں بھی پانی ختم ہوگیاہے۔ جن کسانوں کی روزی روٹی کھیتی ہی ہے وہ کیا کریںگے ؟ بہار کے کرانے گاو¿ں کے ایک شخص بھرت رام کے سامنے بھی ایسے ہی پریشانی پر ان کے پاس چار بگھہ کھیت ہے لیکن بارش نہ ہونے کی وجہ سے دھان کی پود نہیں لگا پائے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنا کنواں ہے اس سے مشکل سے پینے کا پانی ہی مل پاتا ہے ۔ سینچائی کہاں سے ہوگی ۔ بارش نہ ہونے سے بیج پود سوکھنے لگی ہے ۔27جولائی تک کہ اعداد و شمار کے مطابق اس موسم میں اوسط سے کم 47فیصدی ریاست میں بارش ہوئی ہے ۔ بارش کی کمی کا عالم یہ ہے کہ بہار کے 10ضلعوںمیں اوسط سے 60سے 82فیصدی تک کم بارش ہوئی ہے ۔ جبکہ ریاست کے 38میں سے 16ضلعوںمیں اوسط کے مقابلے آدھی بارش بھی نہیں ہوئی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بارش اور سیلاب بہار کیلئے قدرتی آفت بھی ہے اور اسی میں بہار کی خوشحالی بھی چھپی ہے ۔ ہر سال آنے والے سیلا ب کے ساتھ ریاست کے بڑے میدانی علاقوںمیں مٹی کے تودوں کی طاقت بھی بڑھتی ہے اور کسانوں کی پیدا وار بھی اچھی ہوتی ہے ۔ لیکن اس سال بارش نہ ہونے سے ریاست کے لاکھوں کسان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بہار دیش کا وہ راجیہ ہے جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل آبادی کا قریب 75فیصدی حصہ کھیتی پر منحصر ہے ۔ بہار کے لاکھوں کسانوں کیلئے دھان کی فصل کیلئے اگلے کچھ دن کافی اہم ترین ہونے والے ہیں۔ اس دوران اگر اچھی بارش ہو جائے تو ان کی مرتی فصل کو نئی زندگی مل سکتی ہے ۔ (انل نریندر)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

سیکس ،ویڈیو اور وصولی!