Translater

16 مئی 2026

ایران کی نیوکلیئر دھمکی

امریک کی طرف سے امن تجویز پر ایران کے جواب کو مسترد کئے جانے کے بعد مغربی ایشیا میں پھر سے جنگ کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔امریکہ کی تجاویز کا ایران کی جانب سے دیے گئے جواب سے صدر ٹرمپ بوکھلا گئے ہیں ۔انہیں ایران کا جواب بالکل پسند نہیں آیا ۔اُدھر ایران نے امریکہ کو ایسی دھمکی دے دی ہے جو ٹرمپ کے لئے کسی بڑے کرائسس سے کم نہیں ہے۔ پہلے سے ہی جو امن مذاکرات وینٹی لیٹر پر تھے ، وہ اب اور نازک حالات میں پہنچ سکتے ہیں اس بار ایران نے صاف کر دیا ہے کہ وہ ویپنس گریڈ نیوکلیئر بم بنانے سے صرف ایک قدم دور ہے اور اسے حاصل کرنے کا حکم قریب ہی دے سکتا ہے ۔نیوکلیائی حملے کو لےکرایران نے سخت وارننگ دیتے ہوئے لحظہ میں 90 فیصد تک افزودگی یورینیم کو صاف کرنے کی بات کہی ہے ۔ایران کی پارلیمنٹ کے ترجمان ابراہیم رضائی نے منگلوار کو کہا ہے کہ ا گر ایران پر پھر حملہ ہوا تو وہ یورینیم کو 90 فیصد صاف کرسکتا ہے ۔ایسے میں یہ یورینیم نیوکلیئر ہتھار کے لئے کارگر ہوگا ۔یہ وارننگ انہوں نے ایکس کے ذریعے سے دی ہے ۔پچھلے جون 2025 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملے کی وجہ سے ایران کے یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو نقصان پہنچا تھا ۔فی الحال جو متعلقہ یورینیم 60 فیصد ایران کے پاس ہے جس کی مقدار تقریباً 400 کلو ہے ۔فی الحال اس کے بارے میں کسی طرح کی جانکاری نہیں ہے ۔امریکہ مسلسل ایران سے نیوکلیائی پروگرام ترک کرنے کی مانگ کررہا ہے ۔ادھر امریکی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جب تک ایران کے اس یورینیم افزودگی کو نہیں ہٹایاجاتا تب تک کسی طرح کا اثر ایران نیوکلیائی پروگرام پر نہیں پڑے گا ۔28 فروری سے جاری جنگ میں فی الحال سیز فائر چل رہا ہے لیکن یہ بے حد ہی حساس ترین سیز فائر ماناجارہا ہے ۔ایسے میں دونوں فریق کسی بھی ٹھوس نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں ۔امریکہ لگاتار مانگ کررہا ہے کہ ایران اپنے نیوکلیائی پروگرا م کو چھوڑ دے ۔لیکن ایران بھی اپنی شرطوں پر اڑا ہوا ہے ۔ایران بولا -امریکہ کے پاس تجویز تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ۔وہیں امریکہ کے پاس ایران کی طرف سے بتائے گئے 14 نکاتی تجویز کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ایسا ایران کے اسپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا جتنا امریکہ دیر کرے گا وہاں کے ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی بڑی قیمت چکانی پڑے گا ۔انہوں نے ساتھ کہا ہے کہ ایران ہر متبادل کے لئے راضی ہے ۔پلٹوار کرنے کو تیار ہے ۔ایسا حملہ کرے گا کہ امریکہ بھی چونک جائے گا ۔ایران اور جھکنے کے موڈ میں نہیں نظر آرہا ہے ۔سابق صدر حسن روحانی نے بھی کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم 90 فیصد تک جائیں گے اب جب ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں ہیں اور تہران کے خلاف سخت رخ اپنا رہے ہیں تو میں نیوکلیئر کانڈ کی پوری دنیا کو ایک ایسی جنگ میں جھو نک سکتا ہے ۔اسے روکنا شاید کسی کے بس میں نہیں ہوگا ۔
(انل نریندر)

14 مئی 2026

نیتن یاہو کی کھلی وارننگ: ابھی جنگ ہو سکتی ہے

ایران او ر امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کی لپٹیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں ۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک امریکی ٹی وی چینل پر ایک دھمکاکو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کر دیا ہے کہ ایران کا نیوکلیائی خطرہ ٹلا نہیں ہے ۔نیتن یاہو کا یہ پیغام نہ صرف ایران بلکہ ٹرمپ انتظامیہ اور پوری بین الاقوامی برادری کے لئے ایک بڑی وارننگ ہے ۔وزیراعظم نیتن یاہو نے سی بی ایس کے صحافی اسکارٹ پیلی کو دیے 18 منٹ کے انٹرویو میں پہلی بار ایران کے نیوکلیائی ذخیرے کی تفصیلات پیش کیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ابھی بھی 440 کلو گرام 60 فیصد افزودگی یورینیم کا ذخیرہ ہے ۔نیتن یاہو نے سخت لحظہ میں کہا جنگ بندی اپنی مرضی ہے لیکن نیوکلیائی خطرہ ختم نہیں ہوا ہے ۔آپ وہاں جائیں گے اور اسے ہٹا دیتے ہیں ابھی کام پورا ہونا باقی ہے ۔نیتن یاہو نے ایک اہم ترین بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اب امریکہ کی فوجی مدد 3.8  بلین ڈالر سالانہ پر اپنی ایکسپورٹ میں کمی کرنی چاہیے انہوںنے اشارہ دیا کہ اسرائیل اپنی حفاظت کے لئے پوری طرح آزاد ہونے کا پلان بنارہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر بغیر کسی باہری دباؤ کے کاروائی کر سکے ۔ اس انٹرویو کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوٹھ سوشل پر لکھا : ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔بنجامن ایک بڑے ایک مہان لیڈر ہیں اور ہم دونوں ایک پیج پر ہیں ۔اس سے صاف ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پالیسی اور بھی جارحانہ ہوسکتی ہے ۔ایران نے پاکستان کے ذریعے جو امن تجویز بھیجی تھی اسے اسرائیل نے بھی ایک خانہ پوری قرار دیا ہے ۔اسرائیل کا ایک ہی موقف ہے جب تک سارا افزودگی یورینیم دیش سے باہر نہیں جاتا تو کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔نیتن یاہو کے اس موقف نے صاف کر دیا ہے کہ اسرائیل ایک طرفہ کاروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔یہاں ایک طرف دنیا امن کی امید لگائے بیٹھی ہے ،وہی نیتن یاہو یہ بیان دے کر یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مغربی ایشیا کی سیاست اور سیکورٹی کے لئے فیصلہ کن ہونے والی ہوسکتی ہے ۔کیا یہ محض ایک ڈپلومیٹک دباؤ ہے یا اسرائیل سچ میں کسی بڑی فوجی کاروائی کی تیاری میں ہے ؟ امریکہ جہاں ایران کے ساتھ امن چاہتا ہے وہیں اسرائیل اس سمت میں بڑا روڑا بنتا دکھائی دے رہا ہے ۔امریکہ بیشک ایران سے جنگ ختم کرنا چاہتا ہو لیکن اسرائیل ہے کہ اسے یہ کرنے نہیں دے رہا ہے ۔امریکہ ایک طرفہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی صلح ہو جائے ، وہیں اسرائیل ایسا ہونے نہیں دے گا اور لڑائی جاری رکھنے میں بنجامن نیتن یاہو کے ذاتی مفاد بھی ہیں اس پر کرپشن کے الزام لگے ہوئے ہیں اور اسرائیلی عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں ان سے بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں جنگ کو بڑھاوا دیتا ہے اور اس کی آڑ میں عدالتوں سے بچتا رہتا ہے اس لئے اگر ایران سے جنگ بندی ہو تو وہ لبنان میں جنگ شروع کر دیتا ہے ۔جب ایران اور امریکہ کی سیز فائر کی بات ہوئی تب بھی نیتن یاہو نے صاف کہا کہ اس میں اسرائیل-لبنان جنگ شامل نہیں ہے ۔وہ مشرقی وسطیٰ میں کسی بھی سمجھوتہ کو توڑنے میں لگا رہتا ہے۔ اصل جنگ کا قصوروار نیتن یاہو ہے ۔
(انل نریندر)

12 مئی 2026

سیز فائر اور جنگ

ایک طرف تو امریکہ ایران کے درمیان کہنے کے تو سیز فائر یعنی جنگ بندی چل رہی ہے ۔وہیں دوسری طرف جنگ بھی جاری ہے ۔یہ سیز فائر اپنی سمجھ سے تو باہر ہے ۔دعویٰ کیاجارہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں بات چیت ہو سکتی ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر کام چل رہا ہے ۔جس میں نیوکلیائی پروگرام ،ہرمز کشیدگی جیسے اشوز شامل ہیں اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے رول کو لے کر بھی نئی جانکاری سامنے آئی ہے ۔امریکی ایجنسیاں انہیں جنگ اور بات چیت میں اہم مان رہی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں جو بات چیت ہونی ہے اس میں ایک اہم اشو ایک ماہ چلنے والی بات چیت کے خاکے کوتیار کرنا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی اور جنگ ختم کی جاسکے ۔رپورٹ کے مطابق اس تجویز میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور ایران کے پاس موجودہ ہائی اینرچ یورینیم کو کسی دوسرے دیش میں بھیجنے جیسے اشوز شامل ہیں ۔حالانکہ کئی اہم معاملوں پر ابھی بھی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے ۔سب سے بڑا تنازعہ نیوکلیائی پروگرام اور امریکہ کی طرف سے ایران پر لگی پابندیوں میں راحت کو لے کر ہے ۔اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو لے کر جانکاری بھی سامنے آئی ہے ۔امریکی خفیہ ایجنسیوں کا خیال ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کی حکمت عملی طے کرنے اور امریکہ سے بات چیت کو سنبھالنے میں بڑا رول نبھا رہے ہیں ۔اہم ترین یہ ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ٹھیک ہیں اور انہوں نے اپنی کمان سنبھال لی ہے ۔ایک طرف تو سیز فائر جاری ہے اور ڈیل کی بات ہورہی ہے دوسری طرف ہرمز کو لے کر خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو امریکہ اور ایران کے بیچ حملے پھر شروع  ہو گئے ہیں ۔حملے کے درمیان 8 اپریل 2026 سے چلی آرہی نازک جنگ بندی ٹوٹنےکے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔یہ حملے ہرمز ، کیرام اور بدر عباس علاقہ میں ہوئے ہیں ۔اسٹریٹ آف ہرمز میںہوئی اس جھڑپ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی پھر سے انتہا پر پہنچ چکی ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی امید جتائی ہے کہ سمجھوتہ اب بھی ممکن ہے ۔امریکہ کے سنٹرل کمان (سنٹکام ) کے مطابق ایرانی فوج نے اسٹریٹ آف ہرمز میں تعینات تین امریکی جہازوں پر میزائلوں اور ڈرون اور چھوٹی بحری کشتیوں سے حملہ کیا ہے ۔حالانکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔اور جوابی کاروائی میں ایران کے ان فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے جہاں سے یہ حملے شروع ہوئے تھے ۔دوسری جانب ، ایرانی میڈیا تہران ٹائمس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے سبب ان کے جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ایرانی فوج کے ترجمان نے واشنگٹن پر سیز فائر خلاف ورزی کا سیدھا الزام لگایا ہے اور ساری دنیا کی نظریں اب مجوزہ اسلام آباد میں امن بات چیت پر ٹکی ہیں ۔تمام دنیا چاہ رہی ہے کہ یہ جنگ رکے اور خطہ میں امن چین پھر سے قائم ہو ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ پر آگ بگولہ ہوئے نیتن یاہو

امریکہ اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی لیکن اب اس جنگ کو روکنے کے لئے دونوں دیش آپس میں متفق نہیں ہوپارہے ہیں ۔میڈیا رپورٹ ک...